Wednesday, 7 September 2016

<Previous>
کوہسار میں عیدین کے تہوار
تحقیق و تحریر
محمد عبیداللہ علوی
  صحافی،مورخ،  انتھراپالوجسٹ اور بلاگر
 ******************************
عیدالفطر

عید کے موقع پر فوتیتگی  والے گھروں میں جا کر ہر آدمی تعزیت کرتا ہے

کوہسار میں عیدالفطر پر نئے کپڑے، نئے ترپڑاور پگڑی کی روایت کافی پرانی ہے

عید پر سوئیاں ، حلوہ باٹ، اوریا، گرم دودھ، لسی اور دیسی گھی کے پراٹھے پکائے جاتے

پہلی جنگ عظیم کے بعد چائے سے بھی مہمانوں کی تواضع کی جانے لگی

عید کا چاند سری نگر اور راولپنڈی میں دیکھا جاتا تھا،پٹاخے پھوڑ کر اس کی منادی کی جاتی تھی، عید کی راتوں ایک آدمی کتاب پڑھتا اور دوسرے اس کی آواز پر سر دھنا کرتے تھے

***************************
دنیا میں ہر قوم کے مذہبی، سیاسی، قومی اور سماجی تہوار ہوتے ہیں، مسلمانوں کا مزہبی تہوار عیدین کی صورت میں ہوتا ہے اس میں سے ایک عید عیدالفطر بھی ہےجو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے رمضان المبارک کے روزہ داروں کے انعام ہوتا ہے، عالم اسلام کے ہر علاقے میں عیدالفطر نماز عید کی ادئیگی کے بعد اپنی ثقافتی روایات کے مطابق منائی جاتی ہے، کوہسار سرکل بکوٹ، کو مری، گلیات اور سرکل لورہ میں بھی اس کے منانے کی اپنی ثقافتی اقدار ہیں، کوہسار میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ ۔۔۔۔۔ مرنے آلا مری غشناں، آیا گیا نا پُہلناں ۔۔۔۔۔۔ اس لئے اس عید پر جہاں عزیز و اقرب کے ہاں ملنے ملانے، ان کی سوئیاں کھانے کا ایک الگ مزا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ وہاں ۔۔۔۔۔۔ گائوں اور قصبات میں  جن جن گھروں میں اس سال کے دوران فوتیدگی ہوئی ہوتی ہے گائوں کا ہر آدمی اس گھر میں جاتا ہے اور اہلخانہ سے تعزیت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس موقع پر اکثر اہلخانہ متوفی کے سوگ میں نئے کپڑے بھی نہیں پہنتے اور وہ ہر آنے والے کو چائے پیش کرتے ہیں۔ یہ صورتحال متوفی کے گھر میں تین چار روز جاری رہتی ہپے ۔۔۔۔۔ اور موجودگی کے باوجود اگر کو شخص متوفی کے گھر نہ جا سکے تو اس کو بری طرح محسوس کیا جاتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے گھر بھی نا جا کر اس کا بدلہ اتارا جاتا ہے۔

آغا عبدالغفور اپنی کتاب ٹیکسلا کا تہذیبی پس منظر میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ نبی اکرم کے ایک صحابی ابو وقاصؓ آپ کی حیات ہی میں ٹیکسلا تشریف لائے تھے اور یہاں کے راجہ نے ان کی پزیرائی کی تھی، آپ نے یہاں برصغیر کی پہلی مسجد بھی قائم کی تھی، ہندوئوں کے کئی خاندانوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام بھی قبول کیا اور وہ صدیوں اس مسجد کے متولی رہے، یہاں سے فراغت کے بعد آپ کشمیر تشریف لے گئے ان کا راستہ لورہ، تھوبھہ (باڑیاں)، دیول اور وہاں سے دریائے جہلم عبور کر کے کشمیر کا راستہ تھا، قدیم ہندو مورخ یہ بھی لکھتے ہیں کہ خطہ کوہسار میں دیول کے کئی ایک کھشتری خاندان بھی ان کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہو گئے تھے، تا ہم یہ معلوم کرنا ابھی باقی ہے کہ ان صحابی رسولْ نے دیول میں کہاں قیام فرمایا، اس وقت ملکوٹ میں راجہ مل کی اولادیں بھی برسر اقتدار تھیں، کیا انہوں نے بھی ان صحابی رسول کا استقبال کیا تھا ۔۔۔۔۔ یہ سوال ابھی حل طلب ہے۔

بارھویں صدی میں حضرت شاہ علی ہمدانُ کشمیر جاتے ہوئے پوٹھہ شریف سے گزرے تھے اور پورا کیٹھوال قبیلہ مشرف بہ اسلام ہوا تھا اور انہوں نے پوٹھہ شریف میں تاریخ کوہسار کی پہلی مسجد بھی تعمیر کی تھی، کیا اچانک کوہسار کی اس برادری نے دین اسلام کا جائزہ لئے بغیر اسے قبول کر لیا ۔۔۔۔۔۔؟ ہر گز نہیں، صحابی رسول حضرت وقاصؓ کا یہاں سے گزر کوہسار کو اسلام سے بہرہ ور کر چکا تھا اور غیر مسلم جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے تھے اور جب حضرت شاہ علی ہمدان یہاں پہنچے تو ماحول ان کے استقبال کے منتظر تھا، یہ بھی ثبوٹ ملتا ہے کہ ۔۔۔۔ آپ نے یہاں مہینوں قیام بھی کیا، آپ نے سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے نو مسلم کیٹھوال قبیلہ کی دینی اور اخلاقی تربیت بھی کی ہو گی اور اس میں لازمی طور پر عیدالفطر کی نماز اور اس کے دیگر تقاضے کی تکمیل بھی ہوئی گی اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کہ آپ نے ماہ صیام اور اس کے بعد عید کی نماز بھی پڑھائی ہو ۔۔۔۔ بہر کیف جہاں اسلام  جاتا ہے اور قرآن کی تجلیات بکھیرتا ہے ۔۔۔۔۔ وہاں کے شام و سحر برکتوں سے تابناک ہو جاتے ہیں۔

(جنس کے بدلے) کپڑے بیچتے تھے، اس عہد میں ایک معاہدہ عمرانی کے تحت کسب کار برادریاں اپنے فرائض سے آگاہ تھیں اور انہیں عید پر کپڑوں، جوتوں اور حجامت کیلئے کہنا نہیں پڑتا تھا بلکہ وہ اپنے کام میں اتنی مستعد تھیں کہ وہ پہلے سے تیار اور اپنی مصنوعات رمضان المبارک کے اوائل سے ہی اہل دیہہ کو فراہم کرنا شروع کر دیتی تھیں ۔۔۔۔۔۔ ان کے عوض یہ برادریاں سال گائوں میں جتنی بھی فصلیں بھی کاشت ہوتی تھیں ان میں سے وہ اپنی بساط میں ہر کھیت سے ایک گٹھا حاصل کرتی تھیں جسے ۔۔۔۔ کھرین یا کھلین ۔۔۔۔۔۔ کہا جاتا تھا، بعض اوقات انہیں ملنے والی کھرین میں غلہ زمینداروں سے بھئی زیادہ ہو جاتا تھا۔ عید مساجد میں پڑھی جاتی تھی، مولوی صاحب عید کے مسائل بیان کرتے اور اس موقع پر فطرانہ اکٹھا کیا جاتا جس کی شرح عموما بیسویں صدی کی ابتدا میں ایک آنہ تھی، مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کیا جاتا، اس کے بعد نمازی گروپ یا انفرادی صورت میں گائوں کے متوفیین کے گھروں میں جا کر ان کو پرسہ دیتے، ان کے پاس بیٹھتے اور فاتحہ کرتے۔
عید کے موقع پر گھروں میں پکنے والی سوغات میں عموماً بوہلی ہوا کرتی تھی تاہم  چکنے گھڑے پر بنائی جانے والی سوئیاں، حلوہ، باٹ، اوریا، گرم دودھ، لسی اور دیسی گھی کے پراٹھے ہوتے تھے، دیسی مرغی اور اس کا سوپ بھی عید پر مہمانوں کو پیش کیا جاتا، مکئی کی روٹی کی چوری بھی بنائی جاتی اور خوب دلچسپی سے کھائی جاتی، پہلی جنگ عظیم کے بعد جب کوہسار کے برطانوی سپاہی (باوو اور افسر خان) واپس آئے تو اپنے ہمراہ چائے بھی لائے اور اس کے بعد چائے سے بھی مہمانوں کی تواضع کی جانے لگی، پہلی بار اسی وقت چینی کے برتن بھی کوہسار میں متعارف ہوئے، پیالی کو کوہلی اور پلیٹوں کو رکاوی کہا جانے لگا، دوسری جنگ عظیم کے بعد ۔۔۔۔۔ کوہسار میں سبز چائے، حقہ، گیس کا چراغ وغیرہ متعارف ہوئے اور عید کے روز صاحب خانہ مہمانوں کو خصوصی طور پر حقہ ضرور پیش کرتا تھا۔ عید کے موقع پر پردیسی بھی ہر حال میں اپنے گھر جاتے تھے اور وہ صرف اپنی فیملی کے ہی نہیں پورے گائوں کے مہمان ہوتے تھے۔
کوہسار میں رمضان المبارک کے بعد عیدالفطر پر نئے کپڑے، نئے ترپڑ (کھسے) اور نئی ململ کی پگڑی کی روایت بھی کافی پرانی ہے، وہ عہد کوہسار کے باشندوں کا ایک ایسا عمرانی دور تھا جس میں ہر شخص کا کردار متعین تھا، پاپوش ساز ہر عید پر اہلیان دیہہ کو جوتے فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے، زلف تراش ہر ماہ حجامت کرتے تھے، قاصوی برادری کپاس کاشت کرتی تھی اور گائوں کے بڑوں کو ہر عید پر نئے کپڑے فراہم کرنے کی بھی ذمہ دار تھی، اس عہد میں درزی تو تھے مگر وہ ہاتھ پر کپڑے سیتے تھے، مردانہ کپڑے پندرہ گز جبکہ زنانہ بائیس گز کے ہوتے تھے، سترھویں صدی تک کشمیر کے بزاز ان علاقوں میں کپڑے فراہم کرتے تھے جبکہ اٹھارویں صدی میں ہندو دکانداروں نے اس مارکیٹ پر قبضہ کر لیا

عید کا چاند سری نگر اور راولپنڈی میں دیکھا جاتا تھا اور پھر پٹاخوں کو پھوڑ کر اس کی منادی کی جاتی تھی، ہر دیہہ کے علما کرام ذمہ دار ہوتے تھے کہ وہ ماہ صیام اور عید کے چاند کا اعلان کریں اس مقصد کیلئے بڑے شہروں کے علما کے ساتھ ان کے رابطے ہوتے تھے اور انہوں نے یہ اصول طے کیا ہوتا تھا کہ سری نگر یا راولپنڈی جہاں بھی چاند نظر آتا وہاں سے پٹاخوں کے ذریعے اس کا اعلان ہو جاتا، سحری اور فطاری کی اذان کی بھی یہ صورت ہوتی کہ مولوی صاحب کی اذان کے ساتھ ہی اسے انجام دیا جاتا، دوسری جنگ عظیم کے بعد کوہسار میں ٹائم پیس بھی متعارف ہوئی اور اس سے افطاری اور سحری کی اذان کا نظام بھی کافی بہتر ہو گیا البتہ ایک اور بات بھی طے شدہ تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اگر دن نکل آئے تو وہ دروازے بند کر کے سحری کر لیں ان کا روزہ ہو جائیگا ۔۔۔۔۔۔ عید کے موقع اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں اور ہمسائیوں کو حلوے، پراٹھے اور سوئیوں کی سوغات بھی بھیجی جاتی تھی۔
میں سوجتا ہوں کہ ان لوگوں میں خلوص تھا، اگرچہ آج جیسی سہولیات تو انہیں حاصل نہ تھیں، وہ عید کی راتوں میں کتاب سنتے تھے۔ یہ کتاب حضرت میاں بخشؒ کی سیف الملوک ہوا کرتی تھی، ایک آدمی کتاب پڑھتا اور دوسرے اس کی آواز پر سر دھنا کرتے تھے، وہ لوگ ہم سے ہزار درجے بہتر تھے، ایک دوسرے کیلئے جان چھڑکتے تھے، وہ دور بھی ہوتے تو معلوم ہوتا کہ قریب ہیں مگر آج انٹرنیٹ اور موبائل نے سات بر عظیم کے لوگوں تو قریب کر دیا ہے مگر ایک ہی گھرانے کے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین
*********************** 
کوہسار میں قربانی کا سیزن
*********************** 
قربانی کا سیزن ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ اہلیان کوہسار پر کلک کر کے عید کی روایات کے بارے میں بھی سنئیے
--------------------------------------
آج کل قربانی کا سیزن ہے ۔۔۔۔۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان ان دنوں سنت ابراہیمی کی ادئیگی کا ذکر اپنے لبوں پر سجائے ہوئے ہے ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ اس حکومتی کانگو وائرس سے بچائو مہم پر بھی حیران ہے جیسے ۔۔۔۔۔ دنیا میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ کانگو کا مرض واقعی بہت مہلک ہے اور اس سے جتنا دور رہا جا سکے اچھا ہے ۔۔۔۔ لیکن در پردہ حقیقت کچھ اور ہے ۔۔۔۔۔۔ جب فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی کسی پروڈکٹ کو مارکیٹ کرنے کے باوجود ۔۔۔۔۔ سیل کا مطلوبہ ٹارگٹ حاصل نہ کر سکیں تو ۔۔۔۔۔ وہ خود ۔۔۔۔ اور ان کے خریدے ہوئے سرکاری اہلکار اس ۔۔۔۔ کار خیر۔۔۔۔ میں حصہ لیتے ہیں اور یہ غیر ملکی ادویہ ساز کمپنیاں ۔۔۔۔۔ اپنے پینل کے ڈاکٹروں کی طرح ان کے اکائونٹس بھرنے کے علاوہ ۔۔۔۔۔ انہیں غیر ملکی سیاحتی دوروں پر بھی بھیج دیتی ہیں۔   
اس عید قرباں پر ۔۔۔۔۔ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی ۔۔۔۔۔ جماعت اسلامی بیروٹ کے امیر مفتی عتیق عباسی نے ۔۔۔۔۔ ساہیول کی ۔۔۔۔ ودیا نسل کے مویشی فار سیل رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔جس سے اہلیان بیروٹ بھرپور استفادہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ قیمتیں بھی مناسب بتائی جا رہی ہیں جبکہ باقی سرکل بکوٹ میں آزاد کشمیر اور ہزارہ سے جانوروں کی خریداری کی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔ اس وقت راولپنڈی اسلام آباد کی مویشی منڈیوں میں آپ آئیں تو ۔۔۔۔۔ پتہ چلے کہ قیمتیں کیا ہیں ۔۔۔۔۔؟ ایک صحتمند ویہڑے اور ویہڑیاں یہاں پر ۔۔۔۔۔ تقریباً ۔۔۔۔۔ 80,000 سے لیکر120,000روپے ۔۔۔۔۔ تک فروخت ہو رہے ہیں، میں نے یہاں لفظ ۔۔۔۔ صحت مند ۔۔۔۔۔ استعمال کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ ویہڑہ یا ویہڑی کی ان دنوں منڈی میں روزانہ مالش کی جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ روزانہ تیل اور مہندی سے اس کی چمڑی کے بال بھی چمکائے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ عام دنوں میں ان بیچارے جانوروں کی قلت خوراک کی وجہ سے ۔۔۔۔ بکھیاں ۔۔۔۔ اندر گئی ہوتی ہیں مگر اس عید سیزن میں ان کی بھی عید ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ کھل، سوہڑی وغیرہ مادہ جانوروں کو اس لئے کھلائی جاتی ہے کہ وہ دودھ زیادہ اور گھنا دیں ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ یہی خوراکیں نر جانوروں کو بھی عید کے دنوں میں ۔۔۔۔۔ گیس آور کیمیکلز ملی کھل سوہڑی وغیرہ کے ساتھ دی جارہی ہیں ۔۔۔۔۔ اس کا مقصد ۔۔۔۔۔ جانور کی اوجڑی میں گیس پیدا کر کے اس کی بکھیوں کو ۔۔۔۔۔ فل بھرنا ہوتا ہے جس سے ۔۔۔۔۔ جانور بہت صحت مند نظر آتا ہے، گاہک سے اس کی اچھی قیمت بھی مل جاتی ہے۔ 
ایک وقت تھا کہ ۔۔۔۔۔ کوہ مری، سرکل بکوٹ اور گلیات میں ۔۔۔۔۔ گُشٹی کے علاوہ ۔۔۔۔۔ سال بھر کے پلے ہوئے قربانی کے جانور دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے ۔۔۔۔۔ اسی قسم کے ایک صحت مند اور فربہ گستاخ بیل نے ۔۔۔۔۔ حضرت پیر بکوٹیؒ ۔۔۔۔ کی ولایت کا بھی رجوعیہ شریف حویلیاں میں اعلان کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ ہوا یوں کہ ۔۔۔۔۔ عید قرباں پر ایک بیل کسی کےقابو نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔ جوان جہان حضرت پیر بکوٹیؒ بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔ کافی وقت گزر گیا مگر جو بھی اس کے پاس اسے ۔۔۔۔۔ ٹہنگنے ۔۔۔۔ کیلئے جاتا وہ اسے اپنے سینگوں پر اٹھا لیتا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر آپؒ آگے بڑھے، گستاخ مست ویہڑے کو سینگوں سے پکڑا اورنیچے پٹخ دیا اور اسی حالت میں اس کے گلے پر چھری چلائی گئی ۔۔۔۔۔ اس کے بعد لوگ آپ کو ۔۔۔۔۔ مولانا بکوٹیؒ ۔۔۔۔ کے بجائے ۔۔۔۔۔ پیر بکوٹیؒ ۔۔۔۔ کہنے لگے، اس عہد میں ہر گھر میں قربانی کا جانور موجود ہوتا تھا، بھیڑ، دنبہ، بکری اور بکرے کی قربانی تو ہر گھر میں ہوتی تھی تاہم ۔۔۔۔ چار سے چھ من گوشت والے بیل اور گائے کی قربانی سب مل کر کرتے تھے، ایک ہی جگہ پر پانچ سات قربانیاں ہوتی تھیں، حصہ داروں کے علاوہ ۔۔۔۔۔ خویش اور درویش کے حصوں کو ملا کر ۔۔۔۔۔ وہاں ہی ۔۔۔۔۔ سارے گوشت کی میتیں بنا کر ۔۔۔۔۔ بانٹ دی جاتی تھیں ۔۔۔۔۔ ایک بات کی حیرانگی ضرور ہے کہ ۔۔۔۔۔ میتیں لینے والے ۔۔۔۔۔ بزرگوں، بچوں اور خواتین کی قطاریں ۔۔۔۔۔ اس وقت بھی لمبی ہوتی تھیں اور آج بھی طویل نظر آتی ہیں ۔۔۔۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ۔۔۔۔۔ گوشت لینے کیلئے اس وقت چھینا جھپٹی نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔ آج کل ۔۔۔۔ قربانی کے مقام پر بانٹے جانے والے گوشت کو ۔۔۔۔۔ نہ صرف جان پر کھیل کر حاصل کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ بلکہ اس گوشت کے حصول کیلئے ۔۔۔۔۔ بڑے عبرتناک، اذیت ناک اور خوفناک مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔۔۔۔۔ قربانی کرنے والے بعض مخیر حضرات بھی ۔۔۔۔۔ اس موقع پر مستحقین سے بُخل میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ اس گوشت کو مستحقین کے پاس پہنچانے کے بجائے ۔۔۔۔۔ فریج اور فریزرز ۔۔۔۔۔ میں سٹور کر لیتے ہیں اور کم از کم دو ماہ ۔۔۔۔۔ اس گوشت پر بڑے با سہولت گزار لیتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس لئے کہ ۔۔۔۔۔ کوہسار میں ہڈی والا گوشت اڑھائی سو روپے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ راولپنڈی میں ۔۔۔۔۔ ساڑھے تین سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ 
کوہسار کے گھروں میں گائے ، بیل، بھینس وغیرہ خال خال ہی ملتی ہیں، اس کی وجہ زرعی تمدن کا زوال، کم آمدنی، جانوروں سے کراہت اور اس پر محنت سے گریز ہے، آج کل ہماری نئی نسل ۔۔۔۔۔ عید کے موقع پر ۔۔۔۔۔ اس گوشت کی نئی نئی ڈشوں کا تجربہ کرتی ہے، نئی نئی Recipes آزمائی جاتی ہیں، کوفتے، پارچے ،حلیم، روسٹ، قورمہ، بریانی اور پلائو کی ڈشیں عید کے ایک ہفتہ تک جاری رہتی ہیں ۔۔۔۔ نوجوان بھی کسی سے اس لذت کام و دہن میں پیچھے نہیں رہتے، اس کیلئے وہ بغدے (ٹوکے)، چھریاں، سلاخیں اور چولہے کے علاوہ پانچ سے دس کلو کوئلےکا بھی انتظام کر کے ۔۔۔۔۔ اپنے ماہر شیف ہونے کی ساری صلاحیتوں کا اظہار کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ اب یہ گوشت کی قسمت ہے کہ ۔۔۔۔۔ وہ واقعی مطلوبہ ڈش میں ڈھل کر ۔۔۔۔۔ داد عیش پاتا ہے یا ۔۔۔۔۔۔ پہلے ہی نوالے میں شاہی باورچی کے کمال فن کی ناکامی کا اعلان کرتا ہے ۔۔۔۔؟
شہری بچوں کیلئے عید کے جانور ۔۔۔۔ تفریح ۔۔۔۔۔ کا ذریعہ ہوتے ہیں ، اب کوہسار میں بھی نئی نسل سمیت یہ کمسن بچے ۔۔۔۔۔ یہ تفریح جانور کے ساتھ لاڈ پیار، اسے پتوں کی صورت میں چارہ ڈال کر حاصل کرتے ہیں ۔۔۔۔ مگر والدین سے ۔۔۔۔۔ میری اپیل، درخواست، استدعا اور التجا ہے کہ ۔۔۔۔۔ خدا کیلئے اپنے ان بچوں کو ۔۔۔۔۔ قربانی کے جانوروں کے ذبیحہ کے مناظر سے دور رکھیں ۔۔۔۔۔ گزشتہ سال لاہور میں ۔۔۔۔۔ تین بچوں نے ۔۔۔۔۔ کھیل کھیل میں قصائی بن کر ۔۔۔۔۔ اپنے سات ہمجولیوں کو ذبح کر دیا تھا ۔۔۔۔ حکومتی وارننگ پر جائیں تو ۔۔۔۔۔ کانگو وائرس سے بچائو کیلئے ۔۔۔۔۔ اپنے بچوں کو جانوروں کے ساتھ لاڈ پیار سے محفوظ رکھیں ۔۔۔۔ تا کہ یہ معصوم بھی ۔۔۔۔۔ محفوظ ہو جائیں ۔۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اور آپ سب کو سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہونے کی توفیق فرمائے ۔۔۔۔ آمین

*********************
کوہسار کا پہلا حاجی کون ۔۔۔۔۔۔؟
*********************
صحابی رسول حضرت ابوالوقاصؓ کے کوہسار سے گزرنے کے بعد سے ہی ۔۔۔۔۔ اہلیان کوہسار سوئے حرم جانا شروع ہو گئے ۔۔۔۔۔ حضرت شاہ علی ہمدانؒ کی پوٹھہ شریف میں آمد سے کیٹھوال قبیلہ مشرف بہ اسلام ہوا ۔۔۔۔۔۔ آج یہ کوہسار ۔۔۔۔ عرب نژاد قبائل سے آباد ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ پانچ وقت کعبے کی بیٹیاں انہیں اپنی آغوش میں سمیٹ رہی ہیں۔ 
بابائے انسان حضرت آدمؑ نے دھرتی پر اس پہلے گھر کی بنیاد رکھی ۔۔۔۔ خلیل اللہ اور ان کے صاحبزادے ذبیح اللہ نے مل کر اس کی دیواریں کھڑی کیں، پھر آذان بھی دی ۔۔۔۔ خلیل اللہ کو اپنے بیٹے کا گلا کاٹنے کا حکم ملا ۔۔۔۔ پھردنبہ ذبح ہو گیا ۔۔۔۔ اسی بنو اسماعیل میں سے ۔۔۔۔۔ انسانیت کا آخری پیغمبر ﷺ اٹھا ۔۔۔۔ آخری بیغام خداوندی سنایا اور حرم کعبہ میں ۔۔۔۔ 360 مصنوعی خدایان خدا ۔۔۔۔ رب الارباب ۔۔۔۔ حق کے سربلند ہونے سے اوندھے منہ گرتے چلے گئے۔۔۔۔۔ اسلام کو اس کے ماننے والوں کیلئے مکمل کر دیا گیا ۔۔۔۔۔ اب قیامت تک کوئی نبی آئے گا نہ کوئی کتاب ۔۔۔۔۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ۔۔۔۔۔ اللہ کے اس آخری نبی ﷺ نے اسی مقام عرفات کے موجودہ جبل رحمت پر ۔۔۔۔۔ انسان کو ۔۔۔۔۔ پہلی بار انسانی حقوق کا وہ چارٹر بھی دیا ۔۔۔۔۔ جو آج ۔۔۔۔۔ اقوام متحدہ کا آئین ہے ۔۔۔۔ آپ نے یہ میسیج دینے کے بعد ایک لاکھ 24 ہزار صحابہ کرامؓ کے اجتماع سے تصدیق کروائی کہ ۔۔۔۔۔ کیا میں نے ہدایت ربانی کو انسان تک پہنچا دیا ۔۔۔۔؟ سب نے بیک زبان فرمایا ۔۔۔۔۔ یا رسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی جو امانت آپ کے حوالے کی تھی ۔۔۔۔ وہ آپ ﷺ نے ہم تک پہنچا دی ہے ۔۔۔۔ آپ نے شہادت کی انگلی بلند کرتے ہوئے فرمایا ۔۔۔۔۔ یا رب الارباب ۔۔۔۔ گواہ رہنا ۔۔۔۔۔ میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا ہے ۔۔۔۔۔ دین کا مشن مکمل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ اسی لمحے سورۃُ النصر نازل ہوئی ۔۔۔۔ اور آپ کے یار غارؓ کی آنکھیں برسات کی رم جھم کی طرح برسنے لگیں۔
حضرت ابوالوقاصؓ کے حیات نبوی ﷺ یا آپ کے وصال کے بعد کوہسار سے گزرنے کے ساتھ ہی (بحوالہ: ٹیکسلا کا تہذیبی پس منظر از خواجہ عبد الصبور) ۔۔۔۔۔ اس دھرتی کے مقدر کو مہمیز ملی ۔۔۔۔۔ بارھویں صدی میں حضرت شاہ علی ہمدانؒ کشمیر جاتے ہوئے کوہسار سے گزرے ۔۔۔۔۔ پوٹھہ شریف کی موجودہ مسجد کی جگہ پر ۔۔۔۔۔ ان کے ہاتھ پر کیٹھوال قبیلہ نے اسلام قبول کیا ۔۔۔۔ کوہسار میں پہلی بار ۔۔۔۔۔ اسی مسجد والی جگہ پر ۔۔۔۔ صدائے اللہ اکبر گونجی ۔۔۔۔۔ اور گونجتی چلی گئی ۔۔۔۔۔ آج کوہسار بھر میں کوئی غیر مسلم نہیں ۔۔۔۔ بلکہ خالص عرب قبائل کا یہاں پر صدیوں سے بسیرا ہے ۔۔۔۔۔ ہر قریہ قریہ اور کوچہ کوچہ میں دختران کعبہ فرزندان اسلام کو دن میں پانچ بار ۔۔۔۔ اپنی آغوش میں لے رہی ہیں، قیامت تک یہ سلسلہ یونہی جاری و ساری رہے گا ۔۔۔۔۔ اب عید کے روز سے یہی کوہسار کے فرزندان اسلام ۔۔۔۔۔ اپنی مالی قربانیوں کے نذرانے بھی اپنے رب الارباب کے حضور پیش کریں گے ۔۔۔۔
اسلام کی کوہسار میں آمد کے بعد کشمیر ی حجاج کے قافلے سوئے حرم چل پڑے تھے ۔۔۔۔ کوہسار کے حجاج بھی انہی قافلوں کے ہمراہ ۔۔۔۔۔ حریمین الشریفین کی جانب ۔۔۔۔۔ کھنچتے چلے جاتے تھے ۔۔۔۔ سب سے پہلا کوہسار کا وہ کون خوش قسمت تھا جس نے کعبۃ اللہ اور دربار رسول پر حاضری دی ۔۔۔۔۔؟ حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔۔۔۔۔ وہ عہد گھوڑوں، اونٹوں اور بیل گاڑیوں کا تھا ۔۔۔۔۔ سری نگر سے چلنے والے مقدس قافلے کوہالہ کے راستے ۔۔۔۔ بکوٹ، ٹھنڈیانی، نتھیا گلی، لورہ اور ٹیکسلا کے راستے حسن ابدال اور اٹک کو کراس کرتے ہوئے کوہ ہندو کش سے افغانستان، قندوس سے عراق اور وہاں سے ۔۔۔۔۔ حجاز مقدس میں داخل ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ وہاں سے وہ مکۃ المکرمہ میں حرم شریف پہنچ کر مناسک حج ادا کرتے تھے ۔۔۔۔ اس سفر میں ان کے 180سے200 ایام صرف ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ اتنے لمبے سفر میں ۔۔۔۔ کوہسار تک آب زم زم نہیں پہنچ سکتا تھا ۔۔۔۔ 1800 کے بعد ۔۔۔۔ کوہسار کے زائرین ممبئی کے راستے ۔۔۔۔۔ کشتیوں پر جدہ جانے لگے ۔۔۔۔ بندر گاہ پر اترتے ہی ۔۔۔۔۔ ان کا واسطہ ان عرب بدوئوں سے پڑتا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ وہ مہمانان خداوندی سے ان کے زاد راہ، دیگر سامان بلکہ چادروں کو بھی ففٹی ففٹی کرنے کا مطالبہ کرتے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ ان اللہ کے مہمانوں کو یہ قربانی دینا پڑتی ۔۔۔۔ اس سفر میں ان کے لگ بھگ ڈیڑھ سو ایام خرچ ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران ۔۔۔۔۔ اہلیان کوہسار کو ۔۔۔۔۔ آج کے سعودی ملازمین کی طرح ۔۔۔۔۔ فری حج کی سہولت دستیاب تھی ۔۔۔۔ اور انہوں نے جی بھر کر حجر اسود اور تربت رحمۃ اللعالمین ْﷺ کی جالیوں کو اپنی جبینوں میں بسایا اور اپنے لبوں سے چوما ۔۔۔۔۔ اس عہد میں ۔۔۔۔ اہلیان کوہسار میں سے کتنے خوش نصیب ایسے تھے جنہوں نے ۔۔۔۔ وہاں ہی مستقل اقامت اختیار کر لی ، آج وہ انہیں عربوں کی طرح وہاں موجود ہیں جس طرح وہاں کے جدی پشتی لوگ ۔۔۔۔۔ یہ کوہسار کے کون لوگ ہیں ۔۔۔۔؟ ابھی تحقیق طلب ہے ۔۔۔۔ پھر کبھی سہی ۔۔۔۔ انشا اللہ۔

*********************
عیدالاضحیٰ کا یوم سعید
*********************
اہلیان کوہسار کی اکثریت کے گھروں میں اس وقت ۔۔۔۔۔ نہایت خوبصورت جانور قربانی کی شان کو دوبالا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اہلیان کوہسار میں سے وہ لوگ جو قربانی دے رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ عید کے روز نماز فجر سے پہلے روزہ رکھنے کیلئے سحری کھاتے ہیں، مقررہ وقت پر مساجد یا عید گاہ میں نماز عید ادا کرتے اور لوگوں سے عید ملتے ہیں ۔۔۔۔۔ اہلیان کوہسار قصابوں کے محتاج نہیں بلکہ وہ خود جانور کو ۔۔۔۔ سورۃ الانعام کی آیت نمبر 162۔۔۔۔ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔۔۔۔۔ کا ورد کرتے ہوئے قبلہ رخ ذبح کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ذبیحہ کے بعد اہلیان کوہسار خود جانور کی چمڑی اتارتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کا گوشت کاٹتے ہیں ۔۔۔۔۔ پہلے اس کے تین حصے کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ خویش، درویش اور مالک ۔۔۔۔۔ درویش کے حصہ کو ۔۔۔۔ میتوں ۔۔۔۔ کی صورت میں موقع پر موجود مستحقین میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ آج کل ہر تیسرے گھر میں قربانی کی وجہ سے اگرچہ ماضی کی طرح لمبی قطاریں تو نہیں ۔۔۔۔۔ مگر پھر بھی بچے، خواتین اور کچھ معمر افارد ان قطاروں میں ضرور نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس تقسیم کے بعد باقی دونوں حصوں کو ملا دیا جاتا ہے اور اندازے سے سات حصے کیے جاتے ہیں جو مالکان کے حوالے کر دئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہر کوئی اپنا اپنا حصہ لیکر خراماں خراماں اپنے گھر لوٹتا ہے ۔۔۔۔۔ جانور کی سروڑی (سری)، پائے اور اوجری پہلے ہی سے طے شدہ لوگوں میں تقسیم کر دی جاتی ہے ۔۔۔۔ رہی کھال ۔۔۔۔ اس کو مقامی قصاب کو فروخت کر کے رقم سات حصہ داروں میں تقسیم کر دی جاتی ہے ۔۔۔۔ دوسری صورت میں ۔۔۔۔۔ مدارس، مساجد اور غریب رشتہ داروں کو بھی ہدیہ کر دی جاتی ہے ۔۔۔۔۔ عید کے تین دن ہی ۔۔۔۔ کوہسار میں بکرے دنبے، گائے، بیل اور کہیں کہیں اونٹ کی بھی قربانی کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔ اونٹ کو نحر کرنے کیلئے ۔۔۔۔۔ شہری قصاب کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔۔۔۔ گوشت گھر میں آتے ہی ۔۔۔۔ روزہ دار کا روزہ افطار کرایا جاتا ہے ۔۔۔۔ ادس کے بعد وہ ناخن اور سر کے بال بھی کٹواتا ہے۔
آج سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب قربانی کی کھالیں اپنی سمجھ کے مطابق مختلف تنظیموں اور اداروں کو دیتے رہے یہ کبھی گمان بھی نہ ہوا کہ کہ اس سے جو پیسہ ملتا ہے وہ کہاں استعمال ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ وقت نے ثابت کیا کہ ہماری چھان بین نہ کرنے کی عادت نے ہمیں اور ہمارے ملک کو شدید نقصان پہنچایا اور دہشتگردی اور انتہا پسندی میں استعمال ہونے والے پیسے کا اہم کردار یہی قربانی کی کھالوں سے بننے والا پیسہ تھا ۔۔۔۔۔۔ میرے کہنے کا یہ مقصد بھی قطعی نہیں کہ تمام ادارے اور تنظیمیں اس پیسے کا غلط استعمال کرتی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔ عزیز دوستو ۔۔۔۔۔۔ اگر ہم قربانی کی کھالوں کو خود بیچیں اور ان سے حاصل شدہ رقم عین اسلامی تعلیمات کے مطابق پہلے اپنے خاندان کے غریب افراد اور پھر اپنے ارد گرد بسنے والے لوگوں سے مراد اپنے محلے کے غریب لوگوں کی مدد کریں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی مدد سے بہت سے لوگوں کا بھلا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔ قربانی کا اصل مقصد بھی پورا ہوگا۔ 
 عید الاضحیٰ ۔۔۔۔۔ محبت، ایثار اور دیگر رحمتوں کا وہ روز سعید ہے ۔۔۔۔ جب ہر کوئی رنجشیں ختم کر کے ۔۔۔۔۔ روٹھے ہوئوں کو اپنے گلے سے لگاتا ہے ۔۔۔۔ قربانی کا گوشت ۔۔۔۔ رشتوں میں حلاوٹ پیدا کرتا ہے۔۔۔۔ تعلقات کی تجدید ہوتی ہے۔۔۔۔۔ یہ عید طویل اور با رونق ہوتی ہے ۔۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قربانی کا گوشت مستحقین تک پہنچے ۔۔۔۔۔ فریزر کو بھی ضرور گوشت سے بھریں مگر اپنے ان مستحق رشتہ داروں کو بھی ہر گز نہ بھولیں جو سال میں صرف عید پر ہی ۔۔۔۔ بڑا گوشت چکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو سنت ابراہیمی پر چلنے کی توفیق عطا فرماوے ۔۔۔۔۔ آمین ۔۔۔۔ ایک بار پھر ۔۔۔۔ میری اور میرے اہلخانہ کی طرف سے ۔۔۔۔۔ آپ سب کو اور آپ کے اہل خانہ کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید کی بہت بہت مبارک ہو۔ 

***********************